دن ڈھلے

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - سورج کے نقطۂ زوال سے نیچے اترنے یا شام ہونے کے بعد، دوپہر پیچھے یا مغرب کے وقت۔ "دائیں جانب سیم تھی جہاں ہر دن ڈھلے مرغابیاں آ کر اترتی تھیں۔"      ( ١٩٨٢ء، باگھ، ١٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'دن' کے ساتھ 'ڈھلنا' مصدر سے حالیہ تمام 'ڈھلا' کے ساتھ یائے امالہ لگا کر لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سورج کے نقطۂ زوال سے نیچے اترنے یا شام ہونے کے بعد، دوپہر پیچھے یا مغرب کے وقت۔ "دائیں جانب سیم تھی جہاں ہر دن ڈھلے مرغابیاں آ کر اترتی تھیں۔"      ( ١٩٨٢ء، باگھ، ١٣ )